لڑائی جھگڑا

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - تکرار، دنگا فساد، لڑنا جھگڑنا۔ "جب سے ہمارا گروپ شہر میں آیا تھا خوب لڑائی جھگڑے ہوتے تھے۔"      ( ١٩٨٧ء، روز کا قصہ، ١٣١ )

اشتقاق

سنسکرت سے ماخوذ اسم 'لڑائی' کے ساتھ ہندی اسم 'جھگڑا' لگانے سے مرکب 'لڑائی جھگڑا' اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ ١٩٨٧ء کو "روز کا قصہ" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - تکرار، دنگا فساد، لڑنا جھگڑنا۔ "جب سے ہمارا گروپ شہر میں آیا تھا خوب لڑائی جھگڑے ہوتے تھے۔"      ( ١٩٨٧ء، روز کا قصہ، ١٣١ )

جنس: مذکر